Corona virus aur hmari zimadari urdu essay FSc and Matric best essay

تاریخِ انسانی کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ انسانوں کا مختلف ادوار میں مختلف وباؤں،اور ارضی و سماوی آفات سے واسطہ پڑتا رہا ہے…
قدرت کے ان مظاہر کے سامنے انسان بے بس بھی نظر آیا اور ہزاروں،لاکھوں بلکہ کروڑوں افراد ان بیماریوں اور وباؤں کا شکار ہو گئے…

آج کی جدید اور سائنس کی صدی میں بھی ان وباؤں اور آفات کے سامنے انسان اتنا ہی بے بس نظر آتا ہے جتنا پہلے تھا…
،حالیہ کرونا وائرس کی مثال ہی لیجیئے کہ دیکھتے ہی دیکھتے دنیا بھر کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے اور ہر طرف ایک ہی بازگشت سنائی دے رہی ہے اور وہ ہے کرونا وائرس سے بچاؤ کے اقدامات…
انسان چونکہ اشرف المخلوقات ہے اور اس کا کردار بھی سب سے ممتاز ہے۔

سابقہ اقوام کے حالات کا ہی جائزہ لیا جائے تو وہ بھی انسان تھے مگر جب انسانیت سے تہی دست ہو گئے اور اللّٰہ تعالٰی اور اس کے بھیجے گئے انبیاء و رسل علیھم السلام کی تعلیمات سے یکسر انکار کر دیا تو ان کے حالات سے آگہی ہمیں قرآن اس انداز میں دیتا ہے کہ ہم نے انہیں کس انداز میں بے بس کر دیا کہ کسی پر تو چنگھاڑ بھیجی،کسی کو غرق کر دیا،کسی پر پتھر برسائے تو کسی کو گھن جیسے کیڑے کے آگے بے بس کر دیا
ان کے کھانے پینے،اوڑھنے،بچھونے پر مینڈک ڈال دیئے،ٹڈیوں اور لہو کے عذاب سے دوچار اور بے چین و بے قرار ہو گئے…
کسی پر آسمانی بجلی کی کڑک گری تو کئی زلزلوں سے ہلا دیئے گئے…null

غرض تاریخِ انسانی کی یہ ہلکی سی جھلک قرآن کریم کے آئینے میں ہمیں دکھائی دیتی ہے…
پھر مختلف وبائی امراض میں انسانوں کی تنبیہہ اور آزمائش جاری رہی جو آج تک جاری ہے…

تو جب ایسی صورتحال میں ہم اسلامی تعلیمات پر نظر ڈالتے ہیں تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طاعون جیسی بیماری کو اللّٰہ کا عذاب کہا ہے اور پھر ایسے حالات میں جو نیکو کار اس سے متاثر ہو جاتے ہیں اور صبر کرتے ہیں تو ان کے لیئے شہید کا لفظ استعمال فرمایا…(صحیح بخاری ،کتاب الطب)۔

وبائیں جب پھوٹ پڑتی ہیں تو ان کا شکار کوئی بھی ہو سکتا ہے چنانچہ حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کی تعلیم دیتے ہوئے رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جہاں طاعون پھیل جائے وہاں سے نکلو نہیں اور جہاں پھیلا ہوا ہو وہاں جاؤ نہیں…(صحیح بخاری)۔

تو ایسے حالات میں متاثرہ لوگوں کا علاج اور آئسولیشن کے اقدامات باقی افراد کی حفاظت کی خاطر کیئے جائیں تو اس پہ تنقید برائے تنقید کی ضرورت نہیں رہتی اور پھر اگر حکومت وقت اس سے بچاؤ کے اقدامات اٹھاتی ہے تو ہمیں بھی چاہیئے کہ ان قوانین پر عمل درآمد کریں…

اگر ہماری دعوتیں،پارٹیاں اور خوشی کے مواقع پر لمبی چوڑی رسومات کچھ وقت کے لیئے معطل ہو جاتی ہیں تو قومی مفاد و سلامتی کے لیئے یہ کوئی مہنگا سودا نہیں ہے…
اسی طرح تعلیمی اداروں کی بندش اگر پندرہ دن، ایک ماہ کے لیئے کر دی گئی ہے تو یہ بھی کوئی سنگین صورتحال نہیں ہے…!!!

اور وہ لوگ جو کام کے بغیر بھی تنخواہ لے لیں گے ان کے لیئے تو سونے پر سہاگہ والی بات ہے…
آرام بھی اور دام بھی…

ہاں ایسی صورتحال میں وہ طبقہ ضرور پستا ہے جو دیہاڑی دار ہے تو بحیثیت مسلمان قوم کے اہل خیر ایسے لوگوں کے ساتھ بھر پور تعاون کرتے ہوئے ان کے نفسیاتی دباؤ میں کمی لا سکتے ہیں۔
حفاظتی اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ایسے ہی ہے جیسے ہم شوگر،کولیسٹرول اور بلڈ پریشر کنٹرول کرنے کے لیئے احتیاط کرتے ہیں۔

اگر ہم اس چیز پر عمل نہیں کرتے تو اس کی مشکلات کو بھی خود ہی فیس کرتے ہیں…
ڈاکٹرز کے مشوروں پر عمل ہی دوا کا اثر دکھاتا ہے۔

آپ سب جانتے ہیں کہ دوا تب ہی اثر انداز ہوتی ہے جب ڈاکٹر کے مشورے سے لی جائے اور پھر ان چیزوں سے پرہیز اور اجتناب بھی کیا جائے جو دوا کے اثرات میں رکاوٹ بنتی ہیں…
اسی طرح مختلف میڈیا پلیٹ فارم بھی آگہی کے نام پر قوم میں نفسیاتی دباؤ،خوف اور ہیجانی کیفیت پیدا کرنے کی بجائے اُمید افزا انداز میں رائے عامہ ہموار کرتے رہیں۔

ان تمام ظاہری تدابیر کے ساتھ ساتھ ہمیں توکل اور یقین کو بھی مستحکم کرنے کے ساتھ باطنی اصلاح پر بھی خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے…
بدیانتی،ظلم و زیادتی،نا انصافی،دھوکہ دہی،فحاشی و بے حیائی،ملاوٹ،جھوٹ،ناپ تول میں کمی،گراں فروشی،ذخیرہ اندوزی اور دیگر اخلاقی برائیوں کا سدباب کرنے اور اپنے معاملات درست کرنے کی بھی اشد ضرورت ہے…
رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:

“جب کسی قوم میں بے حیائی پھیل جاتی ہے اور اعلانیہ اس کا ارتکاب کیا جانے لگتا ہے تو وہ طاعون اور ایسی بیماریوں میں مبتلا ہو جاتی ہے جو ان کے آباؤ اجداد میں نہ تھیں…”
(ابن ماجہ)۔

آج دنیا نت نئی بیماریوں کا شکار کیوں ہو رہی ہے؟
کہ اس نے خالق کائنات کے احکامات اور حدود سے تجاوز شروع کر دیا ہے…!!!
حلال اور حرام کے رستوں کی پہچان مٹا دی ہے

تو ایسے اعمال کی وجہ سے یہ انسان پھر بے بس کر دینے والی بلاؤں اور وباؤں کے حصار میں جکڑ لیا جاتا ہے…
انفرادی اور اجتماعی طور پر کثرت استغفار اور نیکی کی طرف پلٹنے کا جذبہ ایمان پیدا کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ ہم پر سے یہ مشکل گھڑیاں ٹل اور کٹ جائیں۔۔۔
صبح و شام نبوی دعاؤں کا التزام کریں…!!!

ہمارا رب ہمارے گناہوں سے درگزر فرما کر اپنی رحمت واسعہ سے ان وباؤں سے نجات دے دے کیونکہ قدرت افراد کی کوتاہیوں سے درگزر کر دیتی ہے مگر جب قومیں غلط راہوں کا انتخاب کرتی ہیں تو صفحۂ ہستی سے بھی مٹ جایا کرتی ہیں…!!!

وباؤں کی لپیٹ میں آ جاتی ہیں…
بلاؤں کی زد میں گھِر جاتی اور آفات کے سامنے بے بس ہو جایا کرتی ہیں…

اللّٰہ ہمیں اپنے عذاب سے وہ جس صورت میں بھی ہو اپنی مہربان پناہوں میں لے لے، اور ہم سے راضی ہو جائے ایسی رضا جس کے بعد ناراضگی نہ ہو اور ہم سے ایسے اعمال حسنہ سرزد ہوں جن کے بعد برائیوں کے سمندر نہ اُبلنے پائیں…آمین__!!!
کہ قدرت کبھی کرتی نہیں ملت کے گناہوں کو معاف…

ہمیں اجتماعی اصلاح کی طرف قدم بڑھانے کی ضرورت ہے…
کہ جس نے یہ جسم و جاں عطا کیئے ہیں اسی کی مرضی کے تابع ہو کر ہم جسمانی و روحانی طور پر برکت،عافیت اور رحمت کے مستحق بن سکتے ہیں

یہی اس کا وعدہ ہے جس میں کچھ شک نہیں__!!!
اَللّٰھُمَّ احفظنا مِمَّا نخاف وَ نحذر__!!!آمین یا ارحم الراحمین…!!!

Chemical Grammer by Salman Ul Waheed

Salman Waheed is the author of many books. He is also teacher in different academies for Entry test preparation of MDCAT ,ECAT ,ETEA ,NEET etc.

One of the most important of his book is chemical grammer. Which is consists of English grammer.

Continue reading “Chemical Grammer by Salman Ul Waheed”

ایک اور مسافر طیارہ گر کر تباہ

جارجیا: امریکی ریاست جارجیا میں ایک چھوٹا طیارہ جنگل میں گر کر تباہ ہونے سے جہاز میں سوار ایک ہی خاندان کے 5 افراد ہلاک ہوگئے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا میں ویلسٹن سے نیو کیسٹل کے لیے پرواز بھرنے والا چھوٹا طیارہ قلابازیاں کھاتے ہوئے ایک جنگل میں گر کر تباہ ہوگیا جس سے طیارے میں آگ بھڑک اُٹھی اور دیکھتے ہی دیکھتے جہاز راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہوگیا۔

دو انجن والے پائپر طیارے میں ایک ہی خاندان کے 5 افراد سوار تھے جن میں دو بچے بھی شامل ہیں، طیارہ 67 سالہ لیری رے پریوٹ اُڑا رہے تھے جو خاندان کے سربراہ تھے اور جہاز انہی کے زیر استعمال تھا۔ حادثے میں 67 سالہ لیری، ان  کی بیٹی 43 سالہ جوڈی رے لیمنٹ، داماد 41 سالہ شوان چارلس اور  6 سالہ جڑواں نواسے شامل ہیں۔null

حادثے کی وجوہات کا تاحال تعین نہیں کیا جا سکا ہے۔ امریکی تفتیشی ادارے ایف آئی اے نے طیارہ حادثے کی تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔مزید شیئر

سروے

آپ کے خیال لاک ڈاؤن نرم یا مزید سخت کرنا چاہئے؟

  • نرم
  • سخت

مسجد نبوی کو نمازیوں کے لیے کھول دیا گیا

انڈین آرمی کی نیپالی فوجیوں کے ہاتھوں درگت

نیپالی مسلح افواج نے سرحد کی خلاف ورزی کے الزام میں 16 بھارتی فوجیوں کو گرفتار کر لیا۔ نیپال اور بھارت کے مابین سرحدی تنازعے جاری ہے، نیپال نے بھارتی فوج کے 16 اہلکار گرفتار کر لیے ہیں، سرحدی جھڑپوں میں کچھ بھارتی فوجی زخمی بھی ہوئے ہیں۔نیپا لی فوج نے بھارتی فوجیوں کو گرفتار کیا تو سرحد پر دیگر بھارتی فوج بھاگنے پر مجبور ہو گئی۔ بھارت اس وقت چاروں طرف سے گھر چکا ہے ہے، ایک طرف چین نے لداخ پر بھارت میں گھس کر بھارتی علاقے پر قبضہ کر لیا ہے، دوسری جانب نیپا ل نے بھی بھارتی فوجی گرفتار کر لئے ہیں، تیسری جانب ایل او سی کی خلاف ورزی پر پاک فوج نے بھارت کے ایک ہفتے میں دو کواڈ ہیلی کاپٹر مار گرائے ہیں۔ نیپال نے بھارت کو دھمکی دی تھی کہ اگر بھارت نے کوئی حرکت کی تو ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے بلکہ لڑیں گے۔ نیپال کے نائب وزیراعظم ایشور پوکھریل کا کہنا تھا کہ نیپال کی آرمی ضرورت پڑنے پر لڑے گی۔ ہم ہماری قابلیت، دیانتداری اور ہماری آرمی کی صلاحیت کے تعلق سے کافی پُراعتماد ہیں۔ پوکھریل نیپال کے وزیردفاع بھی ہیں انہوں نے بھارت کی جانب سے سرحدی تنازع کے بعد بھارت کو دھمکی دی ہے کہ اگر بھارت باز نہ آیا تو ہم لڑنے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ نیپال نے بھارتی علاقوں لیپولیک، کالاپانی اور لمپیادھورا کو اپنے علاقہ بتاتے ہوئے اسے اپنے سیاسی نقشہ میں شامل کیا تھا ۔جس کے ساتھ ہی نیپال اور بھارت میں سیاسی اور سفارتی سطح پر تناؤ پیدا ہوگیا۔ واضح رہے کہ نیپال کے وزیراعظم نے نیانقشہ جاری کر دیا جسمیں کالا پانی، لمپیا دھورا اور لیپو کے بھارتی علاقوں کو نیپالی سرحدوں میں شامل کر دیا۔ قبل ازیں بھارت نے پاکستان ،چین کے بعد نیپال سے بھی پنگا لے لیا جس کے بعد نیپال نے مودی سرکار کو آنکھیں دکھائی ہیں، نیپال نے بھارتی سفیر کو طلب کر کے احتجاج ریکارڈ کروایا ہے اور بارڈر پر مزید فوج تعینات کر دی ہے۔ نیپال نے اتراکھنڈ میں دھارچولا سے چین کی سرحد پر واقع لپو لیکھ تک رابطہ سڑک بنائے جانے کی مخالفت میں بھارتی سفیر کو طلب کیا ہے۔نیپال حکومت کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وزیر خارجہ پردیپ کمار گیاولی نے بھارتی سفیر وی ایم كواترا کو سفارتی خط دیا ہے۔ نیپال حکومت کا کہنا ہے کہ اتراکھنڈ میں جو سڑک بنائی گئی ہے، وہ اس کے علاقے میں ہے ۔ بھارت کی جانب سے نیپال سرحد پر سڑک کی تعمیر سے دونوں ملکوں کے درمیان نیا تنازع کھڑا ہو گیا ہے، نیپال نے بھارتی حکومت کو خبردار کیا ہے کہ وہ اس کی حدود کے اندر کسی بھی قسم کا کام کرنے سے باز رہے۔ بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے متنازعہ سرحد لائن آف ایکچوئل کنٹرول کے قریب ایک سڑک کا افتتاح کیا تھا جو ریاست اترکھنڈ کے علاقے دھر چولا کو چین کی سرحد کے قریبی علاقے لیپو لیکھ سے ملاتی ہے۔ لیپو لیکھ کا جنوبی حصہ کلپنی بھارت اور نیپال کے درمیان ایک متنازعہ علاقہ ہے جبکہ چین اور تبت کے ساتھ اسٹریٹجک اہمیت کا تھری وے جنکشن ہے۔ نیپال کی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت کا یکطرفہ اقدام دونوں ملکوں کے وزرائے اعظم کے درمیان طے پانے والے سمجھوتے کیخلاف ہے جس میں سرحدی تنازعات مذاکرات سے حل کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔ نیپال نے سختی سے کہا کہ نئی دہلی نیپال کی حدود میں کسی بھی قسم کی سرگرمیوں سے باز رہے، کھٹمنڈو میں نیپال کی حکمراں جماعت کی جانب سے جاری ایک بیان میں اس سڑک کی تعمیر کو نیپال کی خودمختاری خطرے میں ڈالنے کے مترادف قرار دیا گیا ہے۔ نیپال کی جانب سے بھارت کو لنک روڈ پر مزید تعمیرات سے باز رہنے کی ہدایت دئیے جانے کے بعد نیپال نےے سرحد پر مزید فوج تعینات کردی ہے نیپالی وزیرخارجہ پردیپ گیاوالی کا کہنا ہے کہ انہوں نے سرحد پر بھارتی تعمیرات میں مزید پیشرفت کو روکنے کیلئے فوجی چوکیوں میں اضافہ اور مزید فوج تعینات کی ہے۔ لنک روڈ کی ملکیت کا تنازع دونوں ممالک کی جانب سے تاریخی شواہد و سرکاری دستاویزات کو سامنے رکھ کر حل کرنا ہوگا۔

Design a site like this with WordPress.com
Get started